KP CM Sohail Afridi opposes military operation in Tirah valley, calls for dialogue instead


KP CM Sohail Afridi opposes military operation in Tirah valley, calls for dialogue instead

TIRAH VALLEY: Khyber Pakhtunkhwa Chief Minister Sohail Afridi has opposed any military operation in the Tirah Valley, saying that issues should be resolved through dialogue to achieve lasting peace.

He said the Afridi tribe did not agree with the committee members but were still forced to leave their homes during the harsh winter, adding that once again, the people of Tirah Valley are facing severe hardships.

Afridi recalled that after the regime change, when terrorists were trying to resettle, peace jirgas and marches were held across Khyber, Hazara, Malakand, Dera Ismail Khan, and Waziristan.

He warned that the lives of the Pashtun people were being risked and that terrorism was being reimposed on them.

@immuhammadsohailafridi

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا وادی تیراہ آپریشن پر اہم ویڈیو پیغام! وادی تیراہ پر آج ایک بار پھر سخت ترین حالات مسلط کیے گئے ہیں، عمران خان کی منتخب جمہوری حکومت کو ریجیم چینج آپریشن کے ذریعے گرایا گیا، رجیم چینج کے بعد جب دہشتگرد دوبارہ آباد ہو رہے تھے تو خیبر سے ہزارہ، ملاکنڈ سے لے کر ڈی آئی خان اور وزیرستان تک ہم نے جرگے اور امن پاسون منعقد کیے، ہم نے خبردار کیا کہ پختون قوم کے سروں کا سودا ہو رہا ہے اور ہم پر دہشتگردی دوبارہ مسلط کی جا رہی ہے، اس وقت پی ڈی ایم کی ناجائز حکومت کہتی تھی کہ ہم جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے ہیں، اس وقت پختون قوم بڑی تعداد میں باہر نکلی اور بند کمروں کے فیصلوں کو مسترد کیا، جن اضلاع میں عوام نے ان فیصلوں کو رد کیا، وہاں اللہ کے فضل سے آج بھی امن قائم ہے، بدقسمتی سے جن اضلاع میں اس خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، وہاں آج ہم دوبارہ بدامنی کا شکار ہیں، بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں نے عمران خان کی منتخب جمہوری حکومت کو گرایا، جس کے نتیجے میں بدامنی بھی لوٹی اور معیشت بھی تباہ حال ہوئی۔ آج سرمایہ کار اور نوجوان ملک سے بھاگنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں، وادی تیراہ پر بھی جب بند کمروں کے فیصلے مسلط کیے جا رہے تھے تو میں نے اس کے خلاف آواز بلند کی، جب 22 بڑے اور 14 ہزار سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز سے بدامنی ختم نہیں ہو سکی تو ہمیں کوئی سمجھائے کہ دوبارہ آپریشن کے فائدہ مند نتائج کیا ہوں گے؟ خیبر پختونخوا اسمبلی کے چھت تلے تمام مکاتب فکر اور صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں کے جرگے نے متفقہ طور پر 15 نکاتی ایجنڈا منظور کیا، سب اس بات پر متفق تھے کہ ملٹری آپریشن مسئلے کا حل نہیں اور آپریشن سے دہشتگردی ختم نہیں ہو رہی، سب نے کہا کہ مل بیٹھ کر مسئلے کا حل تلاش کیا جائے تاکہ مستقل امن قائم ہو سکے، لیکن یہ نہیں مانے اور بند کمروں میں فیصلہ ہوا کہ وادی تیراہ پر ایک بار پھر آپریشن مسلط کیا جائے، کور کمانڈر اور آئی جی ایف سی کی سربراہی میں 24 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی، 24 رکنی کمیٹی میں آفریدی قوم کے بڑوں کو کہا گیا کہ آپ لوگ گھروں کو خالی کریں کیونکہ ہم آپریشن نہیں کر سکتے، آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا، لیکن انہیں مجبور کیا گیا کہ برفباری کے موسم میں اپنے گھر بار خالی کریں، میں بار بار واضح کرتا رہا کہ جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برفباری کے باعث جانور بھی زندہ نہیں رہ سکتے، اب نقل مکانی کرنے والے بوڑھے، بچے اور خواتین پوری دنیا دیکھ رہی ہے، اور برفباری کی وجہ سے آپریشن بھی نہیں ہو پا رہا، اب ہمیں کوئی سمجھائے کہ ان بند کمروں کے فیصلوں سے کون سا مقصد حاصل ہوا ہے؟ یہ آپریشن صرف مجھے اپنے لوگوں میں بدنام کرنے اور میری حکومت کو ختم کرنے کے لیے شروع کیا گیا، لیکن میں اپنے لوگوں کے درمیان گیا اور انہوں نے مجھے پیار اور عزت دی، اب جب انہیں سمجھ آ گیا ہے کہ اس موقع پر آپریشن کا فیصلہ غلط تھا تو انہوں نے پریس ریلیز جاری کی کہ تیراہ کے لوگ اپنی مرضی سے نقل مکانی کر رہے ہیں، یہ پریس ریلیز انتہائی خطرناک ہے، اس سے صوبے، اداروں اور وفاق کے درمیان تنازع پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ اعتماد کا فقدان پیدا کرنے کا منصوبہ ہے، اس پریس ریلیز کے بعد قوم ان کی باتوں پر کسی صورت بھروسہ نہیں کریں گے کیونکہ کور کمانڈر اور آئی جی ایف سی نے کمیٹی کے سامنے بڑے وعدے کیے ہیں، میں اتوار کو دو بجے پورے خیبر میں بسنے والی اقوام کا جرگہ جمرود فٹبال اسٹیڈیم میں بلا رہا ہوں، جرگے میں پوچھا جائے گا کہ آپ اپنی مرضی سے بے دخل ہوئے یا زبردستی گھر چھوڑنے پڑے، ہم دنیا کو دکھائیں گے کہ ہمارے ساتھ ظلم ہو رہا ہے، خیبر پختونخوا کے لوگ لیبارٹری نہیں ہیں، خیبر پختونخوا کے لوگ کیڑے مکوڑے نہیں ہیں، ان کا خون سستا نہیں ہے، میری حکومت نے متاثرین کی دیکھ بھال کے لیے چار ارب روپے ریلیز کیے ہیں کیونکہ ہم نے وفاق کے وعدے دیکھے ہیں، پچھلے آپریشن میں گھروں کو تباہ کر کے صرف چار لاکھ روپے کا وعدہ کیا گیا اور آج تک پیسے نہیں دیے گئے، اس بار ہم نے بند کمروں کے فیصلوں کے لیے خود کو تیار رکھا ہے کہ اپنے لوگوں کو بے سہارا نہیں چھوڑ سکتے، میں پختون قوم کے ساتھ کھڑا ہوں اور خون کے آخری قطرے تک ان کے حقوق کے لیے کھڑا رہوں گا، اگر اس بار ہم کھڑے نہ ہوئے تو ساری زندگی جنازے اٹھاتے رہیں گے. وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی

♬ original sound – Sohail Afridi

He also criticised the then PDM government for accusing them of spreading false propaganda, questioning the effectiveness of another military operation.

Afridi said that after 22 major operations and over 14,000 intelligence-based operations failed to bring peace, it is unclear what positive outcome could be expected from yet another one.

You May Also Like